چاک[2]
معنی
١ - کمہار کا مٹی سے بنا ہوا پہیا جو زمین میں کیلی پر نصب ہوتا ہے اور جسے وہ مقررہ ضابطے کے تحت گھما کر اوپر رکھی ہوئی مٹی سے برتن بناتا ہے۔ "کمہار کے چاک کی قطع ہو گئی ہے دائرے کے باہر قدم نہیں پڑتا" ( ١٩٠٦ء، مکاتیب مہدی، ٢٥٩ ) ٢ - (بیلداری) چونا چکی کا ٹھوس پتھر کا وزنی پیّا جو گرنڈ میں گھومتا ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 86:1) ٣ - [ مجازا ] (گاڑی کا) پیا، چکا، چکر، حلقہ یا دائرہ۔ "لکڑی . شکر اور تیل کے گھانے، گاڑی کے چاک اور دھرے کے کاموں میں آتی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، مصرف جنگلات، ٢٨ ) ٤ - آبپاشی کنویں کی پاڑ (گرنڈ) کی چرخی جس پر ڈول یا چرس کا رسّا کھینچا جاتا ہے، چالی، چرخی، گھری۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 154:6)
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'چکرن' سے ماخوذ ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ پراکرت زبان کے لفظ 'چکن' سے بھی ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٢٤٠ء میں "ملک خوشنو، ہشت بشت (اردو شر پارے)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کمہار کا مٹی سے بنا ہوا پہیا جو زمین میں کیلی پر نصب ہوتا ہے اور جسے وہ مقررہ ضابطے کے تحت گھما کر اوپر رکھی ہوئی مٹی سے برتن بناتا ہے۔ "کمہار کے چاک کی قطع ہو گئی ہے دائرے کے باہر قدم نہیں پڑتا" ( ١٩٠٦ء، مکاتیب مہدی، ٢٥٩ ) ٣ - [ مجازا ] (گاڑی کا) پیا، چکا، چکر، حلقہ یا دائرہ۔ "لکڑی . شکر اور تیل کے گھانے، گاڑی کے چاک اور دھرے کے کاموں میں آتی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، مصرف جنگلات، ٢٨ )